کاروار 20 / اگست (ایس او نیوز) ریاستی وزیر اعلیٰ سدا رامیا کے خلاف 'موڈا' زمین گھوٹالے کے معاملے میں قانونی کارروائی کی اجازت دینے کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس پارٹی نے کاروار میں ریاستی گورنر تھور چند گہلوت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔
گورنر کے رویے خلاف مظاہرہ کرنے کے لئے کانگریسی لیڈروں اور کارکنان نے ایک احتجاجی ریلی نکالی جو شہر کی اہم سڑکوں سے گزرتی ہوئی ضلع ڈپٹی کمشنر کے دفتر پہنچی ۔ ریلی کے دوران گورنر کے خلاف نعرے بازی کی گئی ۔ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر لکشمی پریا کو صدر ہند کے نام لکھا گیا کو میمورنڈم سونپا جس میں گورنر گہلوت کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
گورنر کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی اور ایڈمنسٹریٹیو ریفارمس کمیشن کے صدر آر وی دیشپانڈے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدا رامیا کی پتنی کی ذات کو نشانہ بنا کر بی جے پی والے سیاسی کھیل کر رہے ہیں ، ان کا یہ رویہ انتہائی قابل مذمت ہے ۔ میرا اور سدا رامیا کے بہت پرانا قریبی تعلق ہے ۔ ان کے گھر ناشتے پانی کے لئے جاو تو سدا رامیا کی بیوی سامنے نہیں آتی ہیں ۔ وہ دوسروں کے توسط سے ناشتہ پانی بھیجتی ہیں ۔ اس خاتون کو سیاسی کھیل میں گھسیٹا جا رہا ہے ۔ سدا رامیا نے سیاسی زندگی میں بے کردار بنائے رکھا ہے ۔ ان کا نام خراب کرنے کے لئے بی جے پی کوشش کر رہی ہے اور اس کے لئے ریاستی گورنر کو استعمال کیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ششی کلا جولّے، کمارا سوامی سمیت کئی معاملے گورنر کے پاس پڑے ہوئے ہیں اس کے باوجود 24 گھنٹے کے اندر سدا رامیا معاملے میں کیس چلانے کی اجازت گورنر نے دی ہے ۔ اس اجازت نامے کو فوری طور پر گورنر کو واپس لینا چاہیے ۔
ماہی گیری، بندرگاہ اور اندرونی بحری نقل و حمل کے وزیر منکال وئیدیا نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ سدا رامیا پورے ملک میں ایک طاقتور وزیر اعلیٰ ہیں ۔ سدا رامیا ہمارے قائد ہیں، آج بھی وہ وزیر اعلیٰ ہیں اور کل بھی وہی رہیں گے ۔ ان کی طرف سے استعفیٰ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔
منکال نے کہا کہ بی جے پی سستی اور پست سطح کی سیاست کر رہی ہے ۔ بی جے پی والوں کو ریاستی حکومت کا غریب دوست رویہ ہضم نہیں ہو رہا ہے ۔ اس کے خلاف ہماری احتجاجی جد و جہد یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہ تو شروعات ہے ۔ آگے جو بھی ہوگا اس کے لئے خود بی جے پی والے ذمہ دار ہونگے ۔ آنے والے دنوں میں تعلقہ سطح پر احتجاج کیا جائے گا ۔ مرکزی حکومت کی کٹھ پتھلی بنے ہوئے گورنر کو چاہیے کہ ان کی طرف سے دیا گیا وزیر اعلیٰ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کا اجازت نامہ واپس لیں ۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور جے ڈی ایس لیڈروں کے خلاف معاملے موجود ہیں ۔ ان کی تحقیقات کے بعد لوک آیوکتہ نے ریاستی گورنر سے قانونی کارروائی شروع کرنے کی اجازت طلب کی ہے ۔ مگر گورنر نے اب تک اس کی اجازت نہیں دی ہے ، اور سدا رامیا کے معاملے میں چوبیس گھنٹے کے اندر کارروائی کی اجازت دی گئی ہے ۔ ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں ۔
اس احتجاجی مظاہرے کے موقع پر رکن اسمبلی ستیش سئیل، بھیمنّا نائک، سابق وزیر ابھے چند جین، کانگریس ضلع صدر سائی گاونکر کے علاوہ وی ایس پاٹل، رویندرا نائک، نودیت آلوا، سجاتا گاونکر اور دیگر لیڈران موجود تھے ۔